22 اکتوبر 2012 - 10:37

ہاٹ برڈ سے ایرانی چینلز کو حذف کرنے کے یورپی اقدام کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مذمت کی جارہی ہے اور اس کو یورپ کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ قرار دیا جارہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عرب اخبارنویسوں نے ہاٹ برڈ سے ایرانی چینلز کو حذف کرنے کے یورپی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی یونین کا یہ اقدام یورپی اتحاد کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ اور بدنامی و رسوائی کا دھبہ ہے اور آج یورپی یونین ـ جو کبھی امریکہ کے ساتھ برابری کے دعوے کررہی تھی ـ امریکہ کی نوآبادی میں تبدیل اور واشنگٹن و صہیونیوں کی پالیسیوں کی نافذ کنندہ (Enforcer) کی حد تک گر چکی ہے۔
"افریقہ ـ ایشیا" نامی فرانسیسی جریدے کے مدیر اعلی ماجد نعمہ نے بدھ کے روز (17 اکتوبر 2012) العالم سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: ایرانی چینل پر یورپی پابندی بیان کی آزادی چھین لینے کے مترادف اور یورپی یونین کے پیشانی پر بدنامی کا دھبہ ہے کیونکہ یورپیوں کا اپنا دعوی ہے کہ بیان کی آزادی ان اقدار میں سے ایک ہے جن کی بنیاد پر یہ یونین تشکیل پائی ہے۔
انھوں نے کہا: آج یورپ امریکی نوآبادی میں تبدیل ہوگیا ہے اور یہ صورت حال یورپی باشندوں کے مفاد میں نہیں ہے۔
ادھر الاقصی سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ڈائریکٹر نے کہا ہے: العالم سمیت ایرانی چینلز پر ہاٹ برڈ کی پابندی سے ان چینلز کی قوت میں کوئی کمی نہيں آئے گی کیونکہ چینلز دنیا والوں کے لئے اسلامی نظریات بیان کرتے ہیں۔
ادھر الاقصی سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ڈائریکٹر محمد ابوثريا نے کہا: مغرب انسانی حقوق اور آزادی بیان اور آزادی فکر کے معیاروں کی پابندی کا دعویدار ہے لیکن وہ اس دعوے کے مطابق صرف خاص صہیونی ـ امریکی روش کے مطابق عمل کرتا ہے۔
واضح رہے کہ یوٹیل سیٹلائٹ سروسز نامی فرانسیسی کمپنی نے اسلامی جمہوریہ ایران پر یورپی یونین کی غیرقانونی پابندیوں کے تسلسل میں ہاٹ برڈ سیٹلائٹ کو ایرانی چینلز کو سروس دینے سے روک دیا اور اس اقدام نے ذرائع ابلاغ کی آزادی پر مبنی یورپی دعوؤں کا پول کھول دیا۔
العالم اور پریس ٹی وی نیٹ ورکس نے بھی اعلان کیا ہے کہ ہاٹ برڈ سیٹلائٹ نشریات کی ذمہ دار کمپنی "آرکیوا" نے پریس ٹی وی، العالم، سحر 1 اور 2، جام جم 1 اور 2 اور قرآن چینل نیز الکوثر چینل کی نشریات کو غیرقانونی طور پر بند کردیا ہے۔
یوٹیل سیٹ کی میڈیا ڈائریکٹر وینیسا اوکانر (vanessa o'connor) نے کہا ہے کہ ایران چینلز کی بندش ایران پر یورپی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کے سلسلے میں یورپی یونین کی ہدایت پر عمل میں آئی ہے اور یورپی یونین کی ہدایت پر ایرانی چینلز کے ساتھ تمام معاہدات کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیا گیا ہے!۔

.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

یورپ میں ایرانی چینلز پر پابندی؛ کیا بیان کی آزادی ڈھونگ ہے